
یہ جائے ارادت نہیں ہے اجازت ہے گر ایقان سے پکڑا
نہ ہاتھوں سے نہ باتوں سے یہ شعلہ ایمان سے پکڑا
ہو جائے گا قلب وہ روشن جس پہ آن گرا
ہو سکے گا واقف اسرار حق گر دھیان سے پکڑا
پائی شفا ہم نے آ کے اس شعلے کی لپٹ میں
کہ یہ نقطہ مرشد سے اور نسخہ قرآن سے پکڑا
بن گئے شاہ محی الدینؓ بھی دادا میرے
چھوڑ کے خاندان اپنا یہ رشتہ عرفان سے پکڑا
ہم نے بھی گزاری تھی زندگی آغوش دنیا میں
آخر پکڑا جو نفس کو دل ناتواں سے پکڑا
سدھارا پھر اس موذی کو بڑے جتنوں سے
ہوا جب انسان پھر ہم کو گریبان سے پکڑا
رکھا تو نے عرصہ تک اس نعمت سے محروم کیوں
نفس ہم سے شاکی ہم نفس سے جب یہ نقطہ ادبستان سے پکڑا
ہو گئے پاک سب جُسّے جل کے بت کے سوا
روٹھا بت جو جلنے سے اس کو قبرستان سے پکڑا
اب آنے لگی آواز ہر رگ سے اللہ ھو کی
کہ یہ سکون ہم نے کچھ زمین سے کچھ آسمان سے پکڑا
کیا بتاو ¿ں تجھے کہ دل کی زندگی ہے کیا
ڈال کر کمند ہم نے اس کو کہکشاں سے پکڑا
بن بیٹھے آج ہم بھی طالب مولا لیکن
سلجھے تھے تب جب یہ رستہ اک انسان سے پکڑا
ہدایت ہے انسان کو انسان سے ہی اے کور چشم
کہ وسیلہ انسان نے انسان سے شیطان نے شیطان سے پکڑا
پڑا ہے بت اِدھر لٹکی ہوئی ہے جان اُدھر
دے رہے ہیں سجدے اِدھر وہم و گمان اُدھر
لکھتے ہیں سیاہی سے پڑتا ہے لہو کا نشان ادھر
بود و باش اس جنگل میں زندگی کا سامان ادھر
ٹپکے آنکھوں سے آنسو دو چار بن گئے دُرِّ تابان ادھر
پھڑکا جب دل کبوتر کی طرح ہو گئے فرشتے حیران ادھر
آگئے رشک میں کاش ہم بھی ہوتے انسان ادھر
یہ تو وہی خستہ حال تھا جو ہو گیا سینہ تان ادھر
کہا بت کو چل اس دنیا سے کہ بن گیا مکان ادھر
یہ تو اک دھوکہ تھا پڑا ہے جو بے سر و سامان ادھر
نکلی روح سیر کو یہ تو اک ڈھانچہ رہ گیا
نہ ہل سکا نہ جل اک بے بس سانچہ رہ گیا
چلے گئے بیچنے والے یہ تو خالی خوانچہ رہ گیا
تھا یہ بھی کچھ ان کے دم سے جو اک طمانچہ رہ گیا
نہ کر شبہ چور بھی اوتاد و اخیار بن بیٹھے
آئے جو پارس کے ہاتھوں خود ہی سرکار بن بیٹھے
مارا نفس کو اور حق کے خریدار بن بیٹھے
حق نے لیا گر سوکھے کانٹے بھی گلزار بن بیٹھے
فقر میں جو بھی آیا پہلے تو معیوب ہوا
ملا نہ جب تک کچھ درجہ محجوب ہوا
پڑی تجلی گر ٹوٹا عقل تو مجذوب ہوا
گر رہا ثابت قدم اس وقت تو محبوب ہوا
آتا ہے جو بھی پہلے تو وہ بے کار ہوتا ہے
پڑتا ہے جب امتحانوں میں تو وہ خوار ہوتا ہے
گر چل پڑے بے طریقہ پھر وہ بیزار ہوتا ہے
ملتی ہے یہ منزل اسے جو شریعت میں ہوشیار ہوتا ہے
٭٭٭٭٭٭٭
آئے تھے جس طرح اسی پہ گزارہ کر بیٹھے
خریدا نہ سامان کچھ اک سہارا کر بیٹھے
لذت دنیا کو بنایا سامان آخرت بس
نفس کی تمنا میں مسجدوں سے کنارا کر بیٹھے
پوچھا آغا جی سے آتی ہے کوئی صلوٰة تمہیں
سمجھے نہ جس قرآن کو اس کا بگاڑا کر بیٹھے
پیٹ بھرنا خالی کرنا کام ہے ان کا اتنا
پوچھی جو مسجد کی بیت الخلا کا اشارہ کر بیٹھے
دل میں ہے یہی تکیہ کہ ہیں ہم مومن و مسلم
ہیں یہ بھولے جانور جو ہڈیوں کا نظارہ کر بیٹھے
جی رہے ہیں دیکھ کے ہڈیوں کو جن میں تاثیر نہیں
سمجھیں گے کیا وہ درندے جو مذہب کا پھاڑا کر بیٹھے
جن کی آستینوں میں چھپا ہوا ہے ناگ عزازیلی
نہ چھیڑ ان سپیروں کو جو ماتم گوارا کر بیٹھے
ان کے کیا کہنے مُلّوں کا بھی کچھ حال نہیں ادھر
رہ کے نور خرمن میں خرمن کو انگارہ کر بیٹھے
کہاں سے ملے خوشبو اب ان مسجدوں سے
نمازی کیا مُلاّ بھی جہاں فتنوں پر گزارہ کر بیٹھے
نہیں رہی تاثیر قرآن میں بھی کہ بے زار ہے
جس کے معنوں کو الٹ پلٹ کر کھارا کر بیٹھے
سونپا تھا دین و گھر اللہ نے ان مُلاّؤں کو
یہ ڈوبے حلوے میں اور شیاطین ابھارا کر بیٹھے
کیا رہا شکوہ اللہ کو اس آدمیت سے
جو ہو کے آدمی فرعونیت میں شمارا کر بیٹھے
مسکینوں کی بھی عاجزی کچھ عجیب ہوئی
یہ بھوکے ننگے و پیاسے رب سے تکرارا کر بیٹھے
چھپ گئی کہکشاں بھی اس خاموش آسماں سے
تھے جو مصنوعی سیارے خود کو درخشاں ستارا کر بیٹھے
٭٭٭٭٭٭٭
اس زندگی سے گئے پایا جب سراغ زندگی
پایا پھر وسیلہ ظفر مٹایا جب داغ زندگی
نکلے پھر دنیا کے اندھیرے سے جلایا جب چراغ زندگی
دھویا آنسوؤں سے قلب کو بسایا جب باغ زندگی
نکلا اس چمن سے طائر لاہوتی اور کیا نباض زندگی
ہوئے جب قبر و گھر یکساں اور کیا فیاض زندگی
زندگی میں ہی دیکھا یوم محشر اور کیا بیاض زندگی
پیا خون جگر خاطر حق اور کیا ریاض زندگی
٭٭٭٭٭٭٭
ہو کے ذبح خون عرش تک پہنچا تخت یثریٰ تک نہ پہنچا
کر کے پرواز یکدم یہ روح کعبے تک پہنچا خدا تک نہ پہنچا
نہیں ہے دل کو تسکین اے ریاض فنا تک پہنچا التجا تک نہ پہنچا
پی کے پانی آب حیات کا بھی قضا تک پہنچا بقا تک نہ پہنچا
ہیں یہ طریقت کے گرداب لمبے ثنا تک پہنچا شنا تک نہ پہنچا
سچ تو یہی ہے تیری سزا تک پہنچا سخا تک نہ پہنچا
نہیں ہے منظور بہشت تیری یہاں بھی تیری بقا تک نہ پہنچا
کیا دلچسپی حور و قصور سے جب یہ دل شفا تک نہ پہنچا
٭٭٭٭٭٭٭
آتے رہیں گے غوث و قطب ہے جب تک یہ جہاں باقی
مٹ نہ سکے گا یہ کارواں ہے جب تک قرآن باقی
رہتے ہیں ہر وقت تین سو ساٹھ یہ اولیاءاللہ
ان ہی کے دم سے ہے اس دنیا میں ایمان باقی
ابدال اوتاد اخیار زنجبا و نقبا بھی ہیں
ان کے ہاتھوں میں ہے اس دنیا کا اجرائے فرمان باقی
یہی ہیں دنیا کا نظام چلانے والے دراصل
ان ہی کی برکتوں سے ہے مہیا قدرت کا احسان باقی
گر ہو زیادتی مجذوبوں کی رہتا ہے دنیا میں فساد جھگڑا
گر آ جائیں سالک پھر رہتا ہے دنیا میں امن و امان باقی
اکٹھے ہوتے ہیں کعبے میں یہ سارے موقع حج پر
آتے نہیں نظر ماسویٰ ہے جن کی نگاہِ عیاں باقی
ہے یہ محکمہ باطنی رسول کریم کی پولیس کا
رہتے ہیں انکے علاوہ بھی کئی عاشقانِ رحمٰن باقی
قسم ہے گر یہ دنیا ہو جائے محروم ان کے قدموں سے
بن جائیں جبلات دھواں نہ رہے اس زمین کا نشان باقی
ہوئی سالاری شمرے کی ہوا پھر نبض مسلمان کو بھی خطرہ
بن گئیں مسجدیں فیشن ایبل ہوا ان کے ایمان کو بھی خطرہ
آگئے پھر خطیب ماڈرن ہوا قرآن کو بھی خطرہ
آگیا گر مہدیؑ کوئی ہوا اس کی جان کو بھی خطرہ
لگ گئے عَلم چنڈوخانوں پر ہوا حسینی نشان کو بھی خطرہ
آئی صدی کیسی ہُوا مسلمان سے مسلمان کو بھی خطرہ
کر گئی سائنس ترقی ہوا زمین سے آسمان کو بھی خطرہ
منٹوں میں بدل گئی تقدیریں ہوا خلقت سے سلطان کو بھی خطرہ
چپے چپے پہ راہزن دین کے ہوا نبی کی شان کو بھی خطرہ
نہ لکھ بے دھڑک اے گوھر شاہی ہوا تجھ انجان کو بھی خطرہ
آگئے نشیلے مریض ہوا طبیب کی دوکان کو بھی خطرہ
ہوئے لٹیرے قاضی بھی ہوا امن و امان کو بھی خطرہ
چڑھائی عینک ِعلم کے اندھوں نے ہوا حدیث و قرآن کو بھی خطرہ
بن گئے طبیب پڑھ کر قصّے ہوا حکمت لقمان کو بھی خطرہ
دینے لگیں بانگیں مرغیاں ہوا مرغے کی کمان کو بھی خطرہ
ٹوٹنے لگے عہد و پیما ہوا عالِموں کی زبان کو بھی خطرہ
بن گئے رسے ریت کے ہوا جادہ ¿ پیماو ¿ں کی پروان کو بھی خطرہ
آئی نئی مشینیں نئے انڈے ہوا دینِ عربستان کو بھی خطرہ
ہو گئیں برہنہ بیبیاں ہوا ان کی آن کو بھی خطرہ
نہ خبر حلال و حرام کی ہوا طفلِ نادان کو بھی خطرہ
ہو گئے منسلک بندے کتوں سے ہوا شیطان کو بھی خطرہ
نفرت ہے اسے کتوں کی بو سے ہوا اس کے امتحان کو بھی خطرہ
٭٭٭٭٭٭٭
جس حال پہ رکھے تو اسی پہ ہیں شاداں ہم
دکھتا رہے فقط نام تیرا ہوئے جس پہ قربان ہم
رل کر اس مٹی میں ہو گا نہ زباں کو شکوہ تیرا
ہو گئے نام لیواؤں میں تیرے اسی پہ نازاں ہیں ہم
نہ کر شبہ اے آسمان ان گیسوؤں پر ہمارے
تمنا نہیں ہے کچھ بھی اسی کے دیدار کو گریاں ہیں ہم
کھا نہ غم تو دیکھ کر خون جگر کو
یہی پیالہ ہے بیٹھے ہیں دینے کو جسے ترساں ہم
قسم ہے تجھے سخی شہبازؒ کی اے لعل باغ
گواہ رہیو بیٹھے ہیں عرصے سے بے گور و کفاں ہم
رس چکا ہو گا پتے پتے میں تیرے سوزِ عشق
رکھنا سنبھال کے امانت میری بنائیں گے کبھی گور لرزاں ہم
سمجھے گا کیا میری داد و فریاد کو یہ زمانہ
یہ تو اک عجز تھا کر بیٹھے جسے افشاں ہم
آتا نہ تھا دل کو چین کبھی نہ کبھی اے ریاض
یہ بھی اک مرض تھا بنا بیٹھے قلم کو رازداں ہم
جل جائے وہ اناج خرمن ہو نہ میسر جس سے طعام
کیا ناز اس ہم نشین پر ہو نہ سکے جس سے کلام
کیا فائدہ اس طبیب کا کر نہ سکے جو علاجِ تمام
خطرہ ہے اس مُلاّ سے بھی ہے جو دین میں خام
کم بخت ہے وہ عالِم لے نہ سکا جو باطن سے اِکرام
کیا ہے عبادت اس متقی کی حاصل نہ ہو جسے زندگی دوام
آیا کوئی جہل فقر میں بے کامل ہوا ابلیس کا غلام
نہیں ہے بھروسہ اس فلسفی کا ہاتھوں میں ہے جس کے جام
ہو جا علیٰحدہ اس پیر سے کر نہ سکا جو نفس تیرا رام
کہ ہوتے ہیں جو لعل ہیرے رہتے ہیں سمندروں میں گمنام
ہے یہ کلید باطنی اور ظاہری میں ہمارا پیغام
کھل جائیں گے احواس تیرے دیکھتا رہا جو صبح و شام
بند ہے اس میں روح ہماری ہو جائے شاید تجھ سے ہمکلام
گر ہے یقین راسخ تیرا چھٹ جائے گا اک دن قید زمام
٭٭٭٭٭٭٭
No comments:
Post a Comment